سسٹولک اور ڈائسٹولک بلڈ پریشر: یہ نمبر کیا بتاتے ہیں؟

بلڈ پریشر کی ریڈنگ میں دو نمبر ہوتے ہیں۔ ان کا مطلب سمجھنا بہت سادہ ہے اگر بنیادی بات واضح ہو جائے۔

یہ مضمون صرف تعلیمی مقاصد کے لیے ہے۔ کسی بھی صورت میں اسے طبی تشخیص یا مشورے کے طور پر نہ لیا جائے۔
بلڈ پریشر کی پیمائش

بلڈ پریشر کی ریڈنگ: فریکشن کی شکل کیوں؟

جب آپ بلڈ پریشر ناپتے ہیں تو نتیجہ عام طور پر 120/80 جیسی شکل میں سامنے آتا ہے۔ یہ فریکشن نہیں ہے بلکہ دو الگ الگ پیمائشیں ہیں جو ایک ساتھ لکھی جاتی ہیں۔ اوپر والا نمبر سسٹولک کہلاتا ہے اور نیچے والا ڈائسٹولک۔ دونوں ملی میٹر مرکری (mmHg) میں ناپے جاتے ہیں۔

یہ دونوں نمبر دل کی دھڑکن کے دوران شریانوں میں خون کے دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک نمبر اس وقت کا دباؤ ہے جب دل سکڑتا ہے (سسٹولک) اور دوسرا اس وقت کا جب دل آرام میں ہوتا ہے (ڈائسٹولک)۔

سسٹولک بلڈ پریشر — اوپر والا نمبر

سسٹولک نمبر وہ دباؤ ظاہر کرتا ہے جو شریانوں کی اندرونی دیواروں پر اس وقت پڑتا ہے جب دل کا پٹھا سکڑتا ہے اور خون کو شریانوں میں دھکیلتا ہے۔ اسے انگریزی میں Systolic Blood Pressure کہتے ہیں۔ یہ ہمیشہ فریکشن کے اوپر لکھا جاتا ہے اور عام طور پر ڈائسٹولک نمبر سے بڑا ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر ریڈنگ 135/85 ہے تو 135 سسٹولک نمبر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب دل نے دھڑکا، اس لمحے شریانوں کی دیواروں پر 135 ملی میٹر مرکری کے برابر دباؤ تھا۔

ڈائسٹولک بلڈ پریشر — نیچے والا نمبر

ڈائسٹولک نمبر وہ دباؤ ہے جو شریانوں میں اس وقت موجود ہوتا ہے جب دل دو دھڑکنوں کے درمیان آرام کر رہا ہوتا ہے۔ اسے Diastolic Blood Pressure کہتے ہیں۔ یہ فریکشن کے نیچے لکھا جاتا ہے۔

اگر ریڈنگ 135/85 ہے تو 85 ڈائسٹولک نمبر ہے۔ دل جب آرام میں ہے تب بھی شریانوں میں کچھ دباؤ موجود رہتا ہے کیونکہ خون مسلسل بہتا رہتا ہے۔

ملی میٹر مرکری (mmHg) — یہ اکائی کیا ہے؟

بلڈ پریشر کو ملی میٹر مرکری (millimeters of mercury) میں ناپا جاتا ہے۔ اس کی وجہ تاریخی ہے: پہلے بلڈ پریشر ناپنے والے آلات میں پارے (مرکری) سے بھری شیشے کی نلی ہوتی تھی۔ دباؤ بڑھنے پر پارہ اوپر چڑھتا تھا اور اس کی اونچائی ملی میٹر میں ناپی جاتی تھی۔

آج کے ڈیجیٹل آلات میں پارہ نہیں ہوتا لیکن اکائی وہی رہی ہے: mmHg۔ پوری دنیا میں تمام ڈاکٹر اور آلات اسی اکائی میں ریڈنگ دیتے ہیں، جس سے موازنہ آسان ہوتا ہے۔

نبض کا دباؤ (Pulse Pressure) کیا ہے؟

نبض کا دباؤ وہ عدد ہے جو سسٹولک اور ڈائسٹولک نمبر کے درمیان فرق سے نکلتا ہے۔ اگر آپ کی ریڈنگ 120/80 ہے تو نبض کا دباؤ 120 منفی 80 یعنی 40 mmHg ہوگا۔

بعض ڈیجیٹل مشینیں یہ عدد الگ سے نہیں دکھاتیں۔ یہ معلومات آپ خود حساب کر سکتے ہیں۔ عام طور پر 40 کے آس پاس کا فرق دیکھا جاتا ہے۔ اگر فرق بہت زیادہ ہو یا بہت کم ہو تو اسے ریکارڈ ضرور رکھیں — تشریح یا فیصلہ ماہر پر چھوڑیں۔

بازو بمقابلہ کلائی: کہاں سے ناپیں؟

بلڈ پریشر ناپنے کے لیے دو مقامات عام ہیں: اوپری بازو اور کلائی۔ زیادہ تر طبی اداروں میں اوپری بازو والی مشین کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ وہاں شریان بڑی ہوتی ہے اور ریڈنگ عام طور پر زیادہ مستقل آتی ہے۔

کلائی والی مشینیں گھریلو استعمال کے لیے آسان ہیں لیکن ان میں ہاتھ کی پوزیشن ریڈنگ پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اگر آپ کلائی والی مشین استعمال کرتے ہیں تو ہاتھ کو دل کی سطح پر رکھنا ضروری ہے۔

سفیگمومانومیٹر اور کف

ریڈنگ کو صحیح طریقے سے لکھیں

بلڈ پریشر ریکارڈ کرتے وقت چند باتوں کا خیال رکھیں:

یہ ریکارڈ اگر کسی کاپی یا موبائل ایپ میں رکھا جائے تو وقت کے ساتھ ایک مکمل تصویر بنتی ہے جو صرف آنکھوں سے دیکھ کر سمجھنا ممکن نہیں۔

ایک ریڈنگ کافی نہیں ہوتی

بلڈ پریشر دن بھر میں بدلتا رہتا ہے۔ صبح، دوپہر، ورزش کے بعد، کھانے کے بعد، پریشانی میں — ہر حالت میں ریڈنگ مختلف آ سکتی ہے۔ ایک بار کی ریڈنگ سے کوئی نتیجہ نکالنا درست نہیں ہے۔ مختلف اوقات میں ریڈنگ لے کر ریکارڈ رکھنا زیادہ مفید ہے۔