بلڈ پریشر کی ریڈنگ: نمبروں کا مطلب کیا ہے؟
جب آپ بلڈ پریشر کی مشین استعمال کرتے ہیں تو سکرین پر دو نمبر، ایک فریکشن کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ ان نمبروں کا مطلب نہیں سمجھتے۔ یہ ویب سائٹ ان اصطلاحات کو عام فہم اردو میں واضح کرتی ہے، بغیر کسی تشخیص یا طبی مشورے کے۔
سسٹولک و ڈائسٹولک سمجھیں
بلڈ پریشر کی بنیادی اصطلاحات
وہ الفاظ جو آپ ڈاکٹر کے کلینک میں، گھر میں یا بات چیت میں سنتے ہیں
سسٹولک (اوپر والا نمبر)
یہ وہ دباؤ ہے جو شریانوں کی دیواروں پر اس وقت پڑتا ہے جب دل سکڑ کر خون کو آگے بھیجتا ہے۔ عام طور پر یہ نمبر بڑا ہوتا ہے اور فریکشن کے اوپر لکھا جاتا ہے۔
ڈائسٹولک (نیچے والا نمبر)
یہ وہ دباؤ ہے جو شریانوں میں اس وقت موجود ہوتا ہے جب دل دو دھڑکنوں کے درمیان آرام کرتا ہے۔ یہ نمبر چھوٹا ہوتا ہے اور فریکشن کے نیچے لکھا جاتا ہے۔
ملی میٹر مرکری (mmHg)
بلڈ پریشر کی پیمائش کی اکائی۔ یہ پارے (مرکری) کے ستون کی اونچائی کی بنیاد پر ناپی جاتی ہے۔ تمام بلڈ پریشر مشینیں اسی اکائی میں نتیجہ دکھاتی ہیں۔
نبض کا دباؤ (Pulse Pressure)
سسٹولک اور ڈائسٹولک نمبر کا فرق۔ مثلا 120/80 میں نبض کا دباؤ 40 mmHg ہے۔ یہ ایک اضافی عدد ہے جو بعض مشینوں پر ظاہر ہوتا ہے۔
پیمائش کے آلات: مختصر تعارف
بلڈ پریشر ناپنے کے لیے جو آلہ استعمال ہوتا ہے اسے سفیگمومانومیٹر کہتے ہیں۔ اردو میں اسے عام طور پر "بی پی مشین" یا "پریشر والا آلہ" کہا جاتا ہے۔
تین عام اقسام
مرکری والا: پرانی قسم جس میں پارے کا ستون اوپر نیچے ہوتا ہے۔ کلینکس میں اب بھی استعمال ہوتا ہے۔
ایرائیڈ (ڈائل والا): گول ڈائل پر سوئی حرکت کرتی ہے۔ ہسپتالوں میں عام ہے۔
ڈیجیٹل (الیکٹرانک): گھریلو استعمال کے لیے سب سے زیادہ مقبول۔ نمبر خود بخود سکرین پر دکھاتا ہے۔
تفصیلی مضامین
بلڈ پریشر کی اصطلاحات اور پیمائش کے بارے میں مزید جانیں
سسٹولک اور ڈائسٹولک نمبر: تفصیلی وضاحت
120/80 میں اوپر اور نیچے والے نمبر کا اصل مطلب کیا ہے؟ یہ کیسے ریکارڈ کیے جاتے ہیں اور کس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
مکمل مضمون پڑھیں ←
گھر پر بلڈ پریشر کی پیمائش کیسے کریں
ڈیجیٹل مشین کا استعمال، کف کا سائز، بیٹھنے کا صحیح طریقہ اور ریکارڈ رکھنے کے عملی نکات۔
مکمل مضمون پڑھیں ←
بلڈ پریشر کے بارے میں عام غلط فہمیاں
وہ باتیں جو لوگ سمجھتے ہیں مگر درست نہیں ہیں: ایک ریڈنگ سے فیصلہ، کف سائز کی اہمیت، وائٹ کوٹ اثر اور مزید۔
مکمل مضمون پڑھیں ←ریکارڈ رکھنا کیوں ضروری ہے؟
بلڈ پریشر کی ایک ریڈنگ پوری تصویر نہیں دیتی۔ وقت کے ساتھ مختلف حالات میں لی گئی ریڈنگز کا ریکارڈ رکھنا بہت اہم ہے۔ یہ ریکارڈ اگر آپ کبھی ڈاکٹر کے پاس جائیں تو ان کے لیے بھی مفید ہوتا ہے۔
ریکارڈ میں کیا لکھیں؟
تاریخ اور وقت، سسٹولک نمبر، ڈائسٹولک نمبر، نبض کی رفتار (اگر مشین دکھائے)، اور یہ کہ پیمائش کس بازو سے کی گئی۔ بس ریکارڈ کریں، تشریح یا فیصلہ خود نہ کریں۔